برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق شمالی جرمنی میں نیومنسٹر چڑیا گھر کی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ معاشی مسائل کے باعث کچھ جانوروں کو مارنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ دوسرے جانوروں کا پیٹ بھرا جاسکے
ڈائریکٹر ورینا کیسپری کے مطابق ’ہم نے ان جانوروں کی فہرست تیار کرلی ہے جنہیں سب سے پہلے ذبح کیا جائے گا
ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ جانوروں کو مار کر دوسرے جانوروں کا پیٹ بھرا جائے گا تاہم ایسا کرنے سے بھی معاشی مسائل پوری طرح حل نہیں ہوں گے
انہوں نے واضح کیا کہ چڑیا گھر میں موجود سیل اور پینگوئنز کو کھانے کے لیے روزانہ بڑی تعداد میں مچھلیوں کی ضرورت ہوتی ہے
ڈائریکٹر کے مطابق کوروان وائرس کے باعث اگر معاملات اس حد تک خراب ہوئے تو انہیں جانوروں کو مارنا پڑے گا اور انہیں مار کر دوسرے جانوروں کا پیٹ بھرنے کا فیصلہ یقیناً بدترین ہوگا مگر مجبور ہوکر ایسا کرنا پڑے گا
خیال رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے جرمنی میں بھی جزوی لاک ڈاؤن نافذ ہے اور سیاحوں نے چڑیا گھر آنا بھی چھوڑ دیا ہے جس کے باعث ہر گزرتے دن کے ساتھ فنڈز بھی ختم ہورہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جرمنی کے چڑیا گھر مشترکہ طور پر حکومت سے 100 ملین ڈالر کی سرکاری امداد کی درخواست کر رہے ہیں
جرمنی کی قومی چڑیا گھر ایسوسی ایشن (وی ڈی زیڈ) کا موقف ہے کہ چڑیا گھر بہت سے دوسرے کاروباروں کے برعکس. سست روی میں نہیں جا سکتے اور اخراجات کو کم نہیں کرسکتے ہیں
اس کے علاوہ جانوروں کو اب بھی روزانہ کھانا چاہیے اور ان کی دیکھ بھال کرنا بھی ضروری ہے
چڑیا گھر کی انتظامیہ نے 70 فیصد ملازمین کو بھی یکم اپریل سے طویل رخصت پر بھیج دیا ہے
انتظامیہ کے مطابق کچھ جانور انسانوں کو یاد کرکے بھی کافی اداس ہورہے ہیں. کیوں کہ وہ لوگوں کی توجہ کے بہت زیادہ عادی ہوچکے ہیں
واضح رہے کہ جرمنی میں گزشتہ ایک ماہ سے لاک ڈاؤن نافذ ہے. وہاں کورونا سے اب تک ایک لاکھ 32 ہزار 210 افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ 62 ہزار کے قریب افراد اس وائرس سے صحتیاب بھی ہوئے.اس وائرس سے 3 ہزار 495 افراد اب تک اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں



0 Comments